مظفر نگر 27مئی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) اتر پردیش کے کیرانہ لوک سبھا ضمنی انتخاب کے لئے ہفتے کے روز (26 مئی) شام پانچ بجے انتخابی مہم کا شور تھم گیا۔ سخت سیکورٹی کے درمیان پیر (28 مئی) کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ کیرانہ لوک سبھا ضمنی انتخاب میں 14 امیدواروں میں سے ایک لوک دل امیدوار کنور حسن کے آر ایل ڈی کو حمایت دینے کے بعد اب انتخابی میدان میں 13 امیدوار رہ گئے ہیں۔ اہم مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی امیدوار اور مہا گٹھ بندھن امیدوار تبسم حسن کے درمیا ن ہے۔ پروموشنل ختم ہوتے ہی بیرونی اضلاع اور علاقوں کے لیڈر یہاں سے روانہ ہو گئے ہیں۔اس دوران انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق اتر پردیش کی سہارنپور پولیس نے الیکشن کمیشن کے حکم پر بی جے پی کے لیڈر کانتا پر کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کیا ہے۔ مذکورہ لیڈ رپر منگل کو اپنی تقریر میں مذہبی اشتعال انگیزی پر مبنی تبصرہ کا الزام ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایم پی پر یہ مقدمہ منگل کو کیرانہ لوک سبھا علاقے میں کی گئی ایک تقریر کی وجہ سے درج کیا گیا ہے۔ ان پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام ہے ۔ ایس ایچ او یشپال سنگھ نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی ہدایات پر بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ انہوں نے نوکود شہر میں ایک انتخابی جلسہ کے دوران مبینہ طور پر مذہبی اشتعال پر مبنی تبصرہ کیا تھا ۔ وہیں لیڈر کا کہنا ہے کہ انہیں میڈیا کے ذریعہ ہی ایف آئی آر کے بارے میں پتہ چلا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی تقریر میں کچھ بھی قابل اعتراض گفتگو نہیں کی ،کردم بی جے پی کی راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ ہیں اور حال ہی میں راجیہ سبھا کے لئے منتخب ہوئیں تھیں۔